اس حدیث کا مطلب یہ ہے مسلمان
کی بعدِموت اچھائیاں کبھی کبھی بیان کیا کرو کہ نیکوں کے ذکر سے رحمت اترتی ہے ۔ان
کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو کیونکہ مردے کی غیبت زندہ کی غیبت سے سخت تر ہے
کہ زندہ سے معافی مانگی جاسکتی ہے مردے سے نہیں۔اسی لیے علماء رحمہم اللہ تعالیٰ
فرماتے ہیں کہ اگر غسّال مردے پر کوئی نیک علامت دیکھے خوشبو یا چہرے کا نور، تو
لوگوں میں چرچا کرے، اور اگر بری علامت دیکھے بدبو یا چہرے کا بگڑ جانا تو اس کا
کسی سے ذکر نہ کرے، کیونکہ ہمیں بھی مرنا ہے، نہ معلوم ہمارا کیا حال ہو ،بے دین کی برائی ضرور
کرے تاکہ لوگ بے دینی سے بچیں،یزید و حجّاج وغیرہ کو آج بھی برا کہا جاتا ہے کیونکہ
یہ فسّاق ہیں، ان کا فسق ظاہر کرو تاکہ (لوگ) ان جیسے کا موں سے بچیں۔ (مراٰۃ المناجیح، ج ۲،ص۴۸۱)
کُفّار کی بُرائیاں بیان کرنی جائز ہیں اگر
چہ وہ مرگئے ہوں البتہ اگر مرنے والے کفار کے اہل و عیال مسلمان ہوں اور ان کافر
ماں باپ کی بُرائی کرنے سے انہیں ایذا پہنچے تو اس سے بچنا ضروری ہے کہ اب یہ ایذا
ے مُسلِم ہے اور مسلمان کو ایذا دینا جائز نہیں۔ (نزھۃ
القاری،ج۲،ص۸۸۶)











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔