کلمہ طیبہ سکھانے کا یہ حکم استحبابی ہے اوریہی
جمہور علماء کا مذہب ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو مررہا ہو اسے کلمہ سکھاؤ اس
طرح کہ اسکے پاس بلند آواز سے کلمہ پڑھو اسکا حکم نہ دو کیونکہ حدیث شریف میں ہے
کہ جس کا آخری کلام لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ ہو وہ جنتی ہے۔ (المستدرک للحاکم،کتاب الدعاء...الخ،باب من کان
آخر کلامہ...الخ، الحدیث۱۸۸۵،ج۲،ص۱۷۵)
خیال رہے کہ اگر مومن بوقت موت
کلمہ نہ پڑھ سکے جیسے بیہوش یا شہید وغیرہ تو وہ ایمان پر ہی مرا کہ زندگی میں
مومن تھا لہٰذا اب بھی مومن بلکہ اگر نزع کی غشی میں اسکے منہ سے کلمہ کفر سنا
جائے تب بھی وہ مومن ہی ہو گا اسکا کفن دفن نماز سب کچھ ہوگی،کیونکہ غشی کی حالت
کا اِرتداد معتبر نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مرتے وقت کلمہ پڑھانا اس حدیث مذکورہ پر
عمل کے لیے ہے نہ کہ اسے مسلمان بنانے کیلئے،مسلمان تو وہ پہلے ہی ہے۔ (مراٰۃ
المناجیح، ج ۲،ص۴۴۴)
وقتِ موت کا آجانا بطورِ عادت یقینامعلوم ہوجاتا ہے ۔علماء کرام رحمہم اللہ
نے فرمایا:کہ موت کا وقت آجانے کی (بعض) علامات یہ ہیں: (۱) اس وقت پاؤں اس قدر سست ہوجاتے ہیں کہ اگر انہیں کھڑا کیا
جائے تو کھڑے نہیں رہ سکتے ، (۲)ناک ٹیڑھی ہوجاتی ہے ، (۳)آنکھوں اور کان کے درمیانی حصہ کا لٹک جانا۔ (ماخوذ از اشعۃ اللمعات ، ج۱،ص۷۰۴)
تلقین کا طریقہ:
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی
اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی اپنی مایہ ناز تالیف بہار شریعت میں لکھتے ہیں : جانکنی
کی حالت میں جب تک روح گلے کو نہ آئی( ہو) مرنے والے کو تلقین کریں یعنی اس کے پاس
بلند آواز سے اَشْھَدُ اَنْ
لَّآاِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللہِ پڑھیں مگراسے ( یعنی مرنے والے کو) اس کے کہنے کا
حکم نہ کریں۔جب اس (یعنی مرنے والے ) نے کلمہ پڑھ لیا تو تلقین موقوف کردیں۔ہاں
اگر کلمہ پڑھنے کے بعد ا س نے کوئی بات کی تو پھر تلقین کریں کہ اس کا آخر کلام لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ
اللہِ ہو۔ (بہار شریعت،حصہ ۴، ص۱۵۷)











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔