عذاب قبر کے متعلق چند مسائل یاد رکھنے چاہیئں(۱)یہاں قبر سے مراد عالم بَرْزَخ ہے ۔جس کی اِبتدا ہر شخص کی
موت سے ہے اِنتہا قیامت پر 'عرفی قبر مراد نہیں لہٰذا جو مُردہ دفن نہ ہوا بلکہ
جلا دیا گیا یا ڈبو دیا گیا یا اسے شیر کھا گیا اسے بھی قبر کا حساب و عذاب ہے۔ (۲)حساب قبر اور ہے عذاب قبر کچھ اور بعض لوگ حساب قبر میں کامیاب
ہوں گے مگر بعض گناہوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلاء جیسے چغلخور اور گندا (یعنی پیشاب
کے چھینٹوں سے نہ بچنے والا)(۳)کافر کو عذاب قبر دائمی ہوگا
گنہگار مومن کو عارضی (۴)عذاب قبر روح کو ہے جسم اس کے تابع مگر حشر کے بعد والا
عذاب وثواب روح وجسم دونوں کو ہوگا۔ (مراٰۃ المناجیح ، ج۱،ص ۱۲۵،ماخوذاً)
Friday, March 13, 2015
روزنامہ حدیث نمبر 26: عذابِ قبر
Muhammad Waqas
10:59 PM
0
comments
10:59 PM
0
comments
اس تحریر کو
احادیث مبارکہ,
روزنامہ حدیث,
قبر
کے موضوع کے تحت شائع کیا گیا ہے











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔