کسی دینی فائدے کے
بغیرلوگوں کواضطراب، اختلاف،مصیبت اور آزمائش میں مبتلاکرکے نظام زندگی کوبگاڑدینا
''فتنہ ''کہلاتا ہے۔ (الحدیقہ الندیۃ ج ۲،ص۱۴۶) لہٰذا!ہروہ چیزجومسلمانوں
کے درمیان فتنے ، شر،عداوت اور بُغْض کاباعث بنے ،ہمیں اس سے بچنا چاہے۔فتنہ
کوقرآن پاک میں قتل سے زیادہ سخت کہاگیاہے، اگراسی بات پرغورکرلیا جائے توفتنے سے
بچنے کے لئے کافی ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے:
وَالْفِتْنَۃُ
اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ
ترجمہ کنزالایمان :اوران کا
فساد تو قتل سے بھی سخت ہے۔ (پ ۲،البقرۃ:۱۹۱
)
امام بیضاوی علیہ رحمۃاللہ الوالی فتنے کے
قتل سے زیادہ سخت وبراہونے کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ''چونکہ قتل کے مقابلے میں
فتنے کی تکلیف زیادہ سخت اوراس کارنج واَلَم زیادہ دیرتک قائم رہتاہے اسی
لئے اس کوقتل سے زیادہ سخت فرمایاگیا۔''
(الحدیقۃ الندیۃ ،ج۲،ص۱۵۴)











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔