شریعت میں مِسواک سے مُراد وہ
لکڑی ہے جس سے دانت صاف کئے جائیں ۔سنّت یہ ہے کہ یہ کسی پھول یا پھلدار درخت کی
نہ ہو کڑوے درخت کی ہو ۔موٹائی چھنگلی کے برابر ہو ،لمبائی بَالِشْت سے زیادہ نہ
ہو ۔ دانتوں کی چوڑائی میں کی جائے نہ کہ لمبائی میں ۔بے دانت والے اسلامی بھائی
اور اسلامی بہنیں دانتوں پر انگلی پھیر لیا کریں ۔ مسواک اتنے مقام پر سنّت ہے :
وضو میں ،قراٰن شریف پڑھتے وقت ،دانت پیلے ہونے پر ،بھوک یا دیر تک خاموشی یا بے
خوابی کی وجہ سے منہ سے بدبو آنے پر ۔
(مراٰۃ المناجیح ،کتاب الطہارۃ،باب السواک،ج۱،ص۲۷۵ )











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔