مومِن دنیا میں کتنا ہی آرام میں
ہو ،مگر اس کے لئے آخرت کی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا جیل خانہ ہے ،جس میں وہ دل
نہیں لگاتا۔ جیل اگرچہ A کلاس ہو ،پھر بھی جیل ہے،اور کافر خواہ کتنے ہی تکلیف میں ہوں،مگر
آخرت کے عذاب کے مقابل اس کے لئے دُنیا باغ اور جنت ہے۔ وہ یہاں دل لگا کر رہتا ہے۔لہٰذا
حدیث شریف پر یہ اِعتراض نہیں کہ بعض مومن دنیا میں آرام سے رہتے ہیں،
اور بعض کافر تکلیف میں۔ (مراٰۃ
المناجیح،ج۷،ص۴)
دُ نیا قید
خانہ ہے
قاضی سہل محدث رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک دن
بڑے تزک و احتشام کے ساتھ گھوڑے پر سوار کہیں تشریف لے جا رہے تھے ۔ اچانک ایک
حمام سلگانے والا ، دھوئیں اور غبار کی کثافت سے میلا کچیلایہودی حضرت سہل رحمۃ
اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ قاضی صاحب ! مجھے اپنے
نبی(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)کے اس فرمان کامطلب سمجھا دیجئے کہ''دنیا مؤمن کے
لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت ہے۔'' کیونکہ آپ مؤمن ہو کر اس عیش وآرام اور
کرّ و فر کے ساتھ رہتے ہیں اور میں کافر ہو کر اتنا خستہ حال اور آلام ومصائب میں
گرفتار ہوں۔ قاضی سہل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے برجستہ جواب دیا:'' آرام وآسائش کے
باوجود یہ دُنیا میرے لئے جنت کی عظیم نعمتوں کے مقابلے میں قید خانہ ہے ، جبکہ
تمام تر تکالیف کے باوجود یہ دُنیا تمہارے لئے دوزخ کے ہولناک عذاب کے مقابلے میں
جنت ہے ۔''
(تفسیرروح البیان،سورۃ الانعام ،تحت الآیۃ۳۲،ج۳،ص۲۳ )











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔