اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ربِ
کائنات عزوجل کی بھیجی ہوئی بیماریوں کو بُرا کہنا سخت جرم ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح ،ج۲،ص۴۳۰)
دیگربیماریاں جسم کے ایک یا دوحصوں تک محدود
رہتی ہیں جبکہ بخار سر سے پاؤں تک ہر رگ میں اثر کرتا ہے ،لہٰذایہ سارے جسم کی
خطاؤں اور گناہوں کو معاف کرائے گا ۔ (ماخوذ ازمراٰۃ المناجیح ،ج۲،ص۴۱۳)
ایک اور حدیث میں ہےکہ حضرتِ سیدنا
ابودَرْدَاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ
علیہ واٰلہ وسلم کو فرماتے ہو ے سنا،''جومسلمان بخار اور دردِ سر میں مبتلا ہوااور
اس کے سر پر احد پہاڑسے زیادہ گناہ ہوں جب یہ اسے چھوڑتے ہیں تو اس کے سر پر رائی
کے دانہ برابر گناہ نہیں ہوتے ۔''
(مسند احمد بن
حنبل ،مسند ابودَرْدَاء، الحدیث ۲۱۷۹۵، ج۸، ص ۱۷۲)
حضرتِ سیدنا حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ سے
مرفوعاً مروی ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ مسلمان کے ایک رات بخار میں مبتلا ہونے کو
اس کے تمام گناہوں کا کفّارہ بنا دیتا ہے ۔
(التر غیب
والتر ھیب ، کتاب الجنائز ، باب التر غیب فی الصبر...الخ ،الحدیث۷۸ ،ج۴ ،ص ۱۵۳)
اور حضرتِ سیدنا ابی بن کَعْب رضی اللہ تعالیٰ
عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: ''یا رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ
وسلم !بخار کا ثواب کیا ہے ؟''ارشاد فرمایا: ''جب تک بخار میں مبتلاشخص کے قد م میں
درد رہتا ہے اور اس کی رگ پھڑکتی رہتی ہے اسے اسکے عو ض نیکیاں ملتی رہتی ہیں۔''
توحضرتِ سیدنا ابی بن کَعْب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دعا کی : ''اے اللہ عزوجل !میں
تجھ سے ایسے بخار کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری راہ میں جہاد کرنے، تیرے گھر اور
تیرے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی مسجد شریف کی طرف جانے
سے نہ روکے۔'' اس کے بعد حضرتِ سیدنا ابی بن کَعْب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روزانہ
شام کے وقت بخار ہوجایا کرتا تھا۔
(التر غیب والترھیب ،کتاب
الجنائز ، باب التر غیب فی الصبر ...الخ ،الحدیث ۸۲ ، ج ۴ ، ص ۱۵۳)











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔