یہاں مومن سے مراد مومن ِ کامل
ہے ۔(مرقاۃ المفاتیح ،ج۱،ص۱۴۴)اور سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زیادہ
محبوب ہونے کامطلب یہ ہے کہ حقوق کی ادائیگی میں سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ
وسلم کو اونچا مانے اس طرح کہ آپ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کے لائے ہوئے
دین کو تسلیم کرے،آپ(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کی تعظیم وادب بجالائے اور ہر
شخص اور ہر چیز یعنی اپنی ذات،اپنی اولاد،اپنے ماں باپ،اپنے عزیزواقارب اور اپنے
مال واسباب پر آپ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کی رضا وخوشی کو مقدم رکھے۔ (ماخوذازاشعۃاللمعات، ج۱،کتاب الایمان،فصل اول ،ص۵۰)
یہاں محبوب سے مراد طبعی محبوب
ہے نہ کہ صرف عقلی کیونکہ اولاد کو ماں باپ سے طبعی الفت ہوتی ہے ،یہی محبت حضور
نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ ہونی چاہے۔(ماخوذ از مراٰۃ المناجیح،ج۱،ص۳۰)
انسان کبھی اس چیز سے محبت کرتا ہے جس سے اس
کے حواس کو لذت حاصل ہوتی ہے مثلاً حسین و جمیل صورتیں، اچھی آوازیں۔ کبھی ان چیزوں
سے محبت کرتا ہے جن سے اس کی عقل کو لذت حاصل ہوتی ہے مثلاً علم و حکمت کی باتیں،
تقویٰ و طہارت، علماء و متقی لوگ۔ اور کبھی اس شخص سے محبت کرتا ہے جو اس کے ساتھ
حسنِ سلوک کرے اور اس سے شر اور ضرر(یعنی نقصان) کو دور کرے۔
(ماخوذازشرح مسلم للنووی،کتاب الایمان،باب خصائل
من اتصف بھنّ وجد حلاوۃالایمان، ج ۱، ص۴۹)
اور چونکہ محبوبِ رب العٰلمین صلی اللہ تعالیٰ
علیہ وآلہ وسلم محبت کئے جانے کے تمام اسباب کے ایسے جامع ہیں کہ آپ کے سوا کوئی
دوسرا اس جامعیت کو نہیں پہنچ سکتا لہٰذا آپ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) ہر
مومن کے نزدیک اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب ہونے کے مستحق ہیں اور
خاص کر اس صورت میں زیادہ محبوب ہیں کہ آپ محبوبِ حقیقی یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے
رسول ہیں اور خدا تک پہنچانے والے اور اس کی بارگاہ میں عزت و عظمت والے ہیں۔
(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃالمصابیح،ج ۱،ص۱۴۵)











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔