Thursday, March 12, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 25: تائب کی فضیلت

0 comments

توبہ سے مُراد سچی اور مقبول توبہ ہے جس میں تمام شرائطِ جواز وشرائطِ قبول جمع ہوں کہ حقوقُ العباد اور حقوقِ شریعت ادا کردئیے جائیں ،پھر گُذشتہ کوتاہی پر ندامت ہو اور آئندہ نہ کرنے کا عہد ،اس توبہ سے گناہ پر مطلقاً پکڑ نہ ہوگی بلکہ بعض صورتوں میں تو گناہ نیکیوں سے بدل جائیں گے ۔ حضرت رابعہ بصریہ رحمۃ اللہ علیھا حضرت سفیان ثوری اور حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما سے فرمایا کرتی تھیں:''میرے گناہ تمہاری نیکیوں سے کہیں زیادہ ہیں ، اگر میری توبہ سے یہ گناہ نیکیاں بن گئے تو پھر میری نیکیاں تمہاری نیکیوں سے بہت بڑھ جائیں گی ۔ ''  (مرأۃ المناجیح ،ج۳،ص۳۷۹)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔