یہاں صاحب ِبدعت سے مراد بے دین
شخص اور توقیر سے اس کی بلاضرورت تعظیم مراد ہے ۔اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بے دینوں
کی تعظیم گویا اسلام کو ویران کرنا ہے کہ ہماری تعظیم سے عوام کے دلوں میں ان کی
عقیدت پیدا ہوگی ،جس سے وہ ان کا شکار بن سکتے ہیں ،جس طرح مسلمان کی تعظیم کارِ
ثواب ہے ایسے ہی بے دین کی توہین باعث ِ ثواب کہ وہ دشمنِ ایمان ہے ۔(ماخوذ ازمراٰۃ المناجیح،ج۱،ص۱۷۹)
بے دین وبد مذہب سے کس طرح کا برتاؤ کرنا چاہیے
اس کے متعلق چند احاد یث مبارکہ میں ارشاد ہواہے کہ:
تقدیرِ الٰہی عزوجل کو جھٹلانے والے اس اُمّت
کے مجوسی ہیں،(یہ) اگر بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو،اگر مرجائیں توان کے
جنازے میں شریک نہ ہو،ان سے ملاقات ہوتو انہیں سلام نہ کرو۔(سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،باب فی القدر،الحدیث۹۲،ج۱
،ص۷۰)
بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لئے اصحاب واصہار
پسند کئے اور قریب ایک قوم آئے گی کہ انہیں برا کہے گی اور ان کی شان گھٹائے گی تم
ان کے پاس مت بیٹھنا ،نہ ان کے ساتھ پانی پینانہ کھاناکھانا،نہ شادی بیاہ کرنا۔
(کتاب الضعفاء للعقیلی،الحدیث۱۵۴،ج۱،ص۱۴۴)
ان کے جنازے کی نماز نہ پڑھو اور نہ ان کے
ساتھ نماز پڑھو۔
(العلل المتناھیۃ،کتاب السنۃو ذم البدع،باب ذم
الرافضۃ،الحدیث۲۶۰،ج۱،ص۱۶۸)











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔