Wednesday, March 25, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 38: اللہ کے لیے محبت

0 comments

اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے محبت کا مطلب یہ ہے کہ کسی سے اس لئے محبت کی جائے کہ وہ دیندار ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے عداوت کا مطلب یہ ہے کہ کسی سے عداوت ہو تو اس بنا پر ہو کہ وہ دین کا دشمن ہے یا دیندار نہیں۔(نزھۃ القاری،ج۱، ص۲۹۵) امام غزالی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں اگر کوئی شخص باورچی سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ اس سے اچھا کھانا پکواکر فقراء کو بانٹے تو یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے محبت ہے اور اگر عالم دین سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ اس سے علم دین سیکھ کر دنیا کمائے تو یہ دنیا کے لئے محبت ہے۔  (مرأۃ المناجیح،ج۱،ص۵۴)
     حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رحمتِ عالم ، نورِمجسم ،شہنشاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمانِ عالیشان ہے :''یہ بات ایمان سے ہے کہ ایک شخص دوسرے سے فقط اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے محبت کرے اس میں دیئے جانے والے مال کا دَخْل نہ ہوتوایسی محبت ایمان(کاحصہ)ہے ۔''

 (المعجم الاوسط ، رقم الحدیث۷۲۱۴، ج۵،ص۲۴۵)

    امام نووی علیہ رحمۃاللہ الولی فرماتے ہیں :''اللہ اوررسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں زندہ اورانتقال کرجانے والے اولیاء وصالحین رحمہم اللہ تعالیٰ کی محبت بھی شامل ہے اوراللہ ورسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی افضل ترین محبت یہ ہے ان کے احکام پرعمل اورنواہی سے اجتناب کیاجائے ۔

 (شرح مسلم للنووی،کتاب البر والصلہ،باب المرء مع من احب،ج۲ص۳۳۱)
الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے اکابرین الْحُبُّ فِی اللہِ وَالْـبُغْضُ فِی اللہِ کی چلتی پھرتی تصویر تھے ۔چنانچہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہٗنے جنگِ اُحد میں اپنے باپ جراح کو قتل کیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے روز بدر اپنے بیٹے عبدالرحمن کو مُبَارَزَت (یعنی مقابلے)کیلئے طلب کیا لیکن رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں اس جنگ کی اجازت نہ دی اور سیِّدُنامعصب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗنے اپنے بھائی عبداللہ بن عمیر کو قتل کیا اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہٗنے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو روز بدر قتل کیا اور حضرت علی بن ابی طالب و حمزہ و ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ربیعہ کے بیٹوں عتبہ اور شیبہ کو اور ولید بن عتبہ کو بدر میں قتل کیا جوان کے رشتہ دار تھے خدا اور رسول پر ایمان لانے والوں کو قرابت اور رشتہ داری کا کیا پاس۔

 (تفسیر خزائن العرفان ،المجادلہ،تحت الاٰیۃ۲۲)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔