Sunday, March 29, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 41: سو شہیدوں کا ثواب

0 comments

فسادِ اُمت سے سنّت چھوڑ دینااور اس میں کمی وکوتاہی کرنا مراد ہے ۔اور سوشہید کے لفظ سے اس کی طرف اشارہ ہے کہ ایسے وقت میں سنّت پر عمل بڑی مشقت اور جدوجہد سے ہوسکے گا لیکن اس کی فضیلت اور ثواب بہت زیادہ ہوگا ۔(اشعۃ اللمعات،ج۱،ص۱۵۵)
شہید کا ثواب کتنا ہے اسے اس فرمانِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے سمجھئے ،چنانچہ حضرتِ سیدنامِقدام بن مَعدِی کَرِبَ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' بیشک اللہ عزوجل شہیدکو چھ انعام عطا فرماتاہے ،(۱)اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت فرمادیتا ہے اور جنت میں اسے اس کا ٹھکانا دکھا دیتا ہے (۲) اسے عذاب قبرسے محفوظ فرماتا ہے،(۳)قیامت کے دن اسے بڑی گھبراہٹ سے امن عطا فرمائے گا،(۴)اس کے سرپر وقار کا تاج رکھے گا جس کا یاقوت دنیا اور اس کی ہرچیز سے بہتر ہو گا، (۵) اس کا حوروں میں سے 72حوروں کے ساتھ نکاح کرائے گا، (۶) اس کی 70 رشتہ داروں کے حق میں شفاعت قبول فرمائے گا۔''

(ابن ماجہ، کتاب الجہاد، باب فضل الشھادۃ فی سبیل اللہ، الحدیث ۲۷۹۹ ،ج۳ ،ص ۳۶۰ )

    فسادِ امت کے وقت سنّت کو مضبوطی سے تھامنے والے کے لئے سوشہیدوں کے ثواب کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شہید تو ایک بار تلوار کا زخم کھا کر پار ہوجاتا ہے مگر یہ بندہ خدا عمربھر لوگوں کے طعنے اور زبانوں کے گھاؤ کھاتا رہتا ہے ، اللہ اور رسول عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خاطر سب کچھ برداشت کرتا ہے اس کا جہاد جہادِ اکبر ہے جیسے اس زمانہ میں داڑھی رکھنا اور سود سے بچنا وغیرہ ۔(ماخوذ از مراٰۃ المناجیح،ج۱،ص۱۷۳)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔