Thursday, April 23, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 65: جنت کا باغ

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 65: جنت کا باغ





Monday, April 20, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 63: کامل مومن

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 63: کامل مومن

Saturday, April 18, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 62: افضل اسلام

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 62: افضل اسلام





روزنامہ حدیث نمبر 61: ایمان کی شاخیں

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 61: ایمان کی شاخیں

روزنامہ حدیث نمبر 60: بلا وجہ طلاق

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 60: بلا وجہ طلاق

Thursday, April 16, 2015

Wednesday, April 15, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 58: عورت اور پردہ

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 58: عورت اور پردہ



Tuesday, April 14, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 57: شوہر کی اطاعت

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 57: شوہر کی اطاعت


Saturday, April 4, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 50: دنیا کی بہترین متاع

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 50: دنیا کی بہترین متاع

    انسان دنیا کو برَتْ کر چھوڑ جاتا ہے, رب تعالیٰ فرماتا ہے '' قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ'' ترجمہ کنزالایمان:تم فرما دو کہ دُنیا کا برتنا تھوڑا ہے ۔۵،النساء ۷۷)

    صوفیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ،اگر دنیا دین سے مل جائے تو لازوال دولت ہے قطرے کو ہزار خطرے ہیں دریا سے مل جائے توروانی طغیانی سب کچھ اس میں آجاتی ہے اور خطرات سے باہر ہو جاتا ہے۔
    عورت کو بہترین متاع اس لئے فرمایا گیا کہ نیک بیوی مرد کو نیک بنا دیتی ہے،وہ اُخروی نعمتوں سے ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے '' رَبَّنَا اٰ تِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً'' کی تفسیر میں فرمایا (یعنی ) خدایا ہم کو دنیا میں نیک بیوی دے اور آخرت میں اعلیٰ حور عطا فرما اور آگ'' یعنی خراب بیوی'' کے عذاب سے بچا۔جیسے اچھی بیوی خدا کی رحمت ہے ایسی ہی بری بیوی خدا کا عذاب ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، ج ۵،ص۴)

روزنامہ حدیث نمبر 49: موت کے وقت تلقین

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 49: موت کے وقت تلقین

     کلمہ طیبہ سکھانے کا یہ حکم استحبابی ہے اوریہی جمہور علماء کا مذہب ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو مررہا ہو اسے کلمہ سکھاؤ اس طرح کہ اسکے پاس بلند آواز سے کلمہ پڑھو اسکا حکم نہ دو کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ جس کا آخری کلام لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ ہو وہ جنتی ہے۔  (المستدرک للحاکم،کتاب الدعاء...الخ،باب من کان آخر کلامہ...الخ، الحدیث۱۸۸۵،ج۲،ص۱۷۵)
خیال رہے کہ اگر مومن بوقت موت کلمہ نہ پڑھ سکے جیسے بیہوش یا شہید وغیرہ تو وہ ایمان پر ہی مرا کہ زندگی میں مومن تھا لہٰذا اب بھی مومن بلکہ اگر نزع کی غشی میں اسکے منہ سے کلمہ کفر سنا جائے تب بھی وہ مومن ہی ہو گا اسکا کفن دفن نماز سب کچھ ہوگی،کیونکہ غشی کی حالت کا اِرتداد معتبر نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مرتے وقت کلمہ پڑھانا اس حدیث مذکورہ پر عمل کے لیے ہے نہ کہ اسے مسلمان بنانے کیلئے،مسلمان تو وہ پہلے ہی ہے۔  (مراٰۃ المناجیح، ج ۲،ص۴۴۴)

    وقتِ موت کا آجانا بطورِ عادت یقینامعلوم ہوجاتا ہے ۔علماء کرام رحمہم اللہ نے فرمایا:کہ موت کا وقت آجانے کی (بعض) علامات یہ ہیں: (۱) اس وقت پاؤں اس قدر سست ہوجاتے ہیں کہ اگر انہیں کھڑا کیا جائے تو کھڑے نہیں رہ سکتے ، (۲)ناک ٹیڑھی ہوجاتی ہے ، (۳)آنکھوں اور کان کے درمیانی حصہ کا لٹک جانا۔  (ماخوذ از اشعۃ اللمعات ، ج۱،ص۷۰۴)
تلقین کا طریقہ:

    صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی اپنی مایہ ناز تالیف بہار شریعت میں لکھتے ہیں : جانکنی کی حالت میں جب تک روح گلے کو نہ آئی( ہو) مرنے والے کو تلقین کریں یعنی اس کے پاس بلند آواز سے اَشْھَدُ اَنْ لَّآاِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللہِ پڑھیں مگراسے ( یعنی مرنے والے کو) اس کے کہنے کا حکم نہ کریں۔جب اس (یعنی مرنے والے ) نے کلمہ پڑھ لیا تو تلقین موقوف کردیں۔ہاں اگر کلمہ پڑھنے کے بعد ا س نے کوئی بات کی تو پھر تلقین کریں کہ اس کا آخر کلام لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ہو۔  (بہار شریعت،حصہ ۴، ص۱۵۷)

روزنامہ حدیث نمبر 48: سورۃ یٰس

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 48: سورۃ یٰس

    ظاہر مرا دیہ ہے کہ موت کے وقت سوره  یٰس پڑھی جائے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ موت کے بعد گھر میں پڑھی جائے یا قبر کے سرہانے پڑھی جائے۔

 (اشعۃ اللمعات، ج۱، ص۷۰۶)

    قراٰن مجید کی ہر سورۃ میں کوئی خاص فائدہ ہوتا ہے سورہ  یٰس میں حل مشکلات کی تاثیر ہے۔  (مراۃ المناجیح، ج ۲،ص۴۴۶)

Friday, April 3, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 45: مردوں کا تذکرہ خیر

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 45: مردوں کا تذکرہ خیر

اس حدیث کا مطلب یہ ہے مسلمان کی بعدِموت اچھائیاں کبھی کبھی بیان کیا کرو کہ نیکوں کے ذکر سے رحمت اترتی ہے ۔ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو کیونکہ مردے کی غیبت زندہ کی غیبت سے سخت تر ہے کہ زندہ سے معافی مانگی جاسکتی ہے مردے سے نہیں۔اسی لیے علماء رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر غسّال مردے پر کوئی نیک علامت دیکھے خوشبو یا چہرے کا نور، تو لوگوں میں چرچا کرے، اور اگر بری علامت دیکھے بدبو یا چہرے کا بگڑ جانا تو اس کا کسی سے ذکر نہ کرے، کیونکہ ہمیں بھی مرنا ہے، نہ معلوم ہمارا کیا حال ہو ،بے دین کی برائی ضرور کرے تاکہ لوگ بے دینی سے بچیں،یزید و حجّاج وغیرہ کو آج بھی برا کہا جاتا ہے کیونکہ یہ فسّاق ہیں، ان کا فسق ظاہر کرو تاکہ (لوگ) ان جیسے کا موں سے بچیں۔  (مراٰۃ المناجیح، ج ۲،ص۴۸۱)

    کُفّار کی بُرائیاں بیان کرنی جائز ہیں اگر چہ وہ مرگئے ہوں البتہ اگر مرنے والے کفار کے اہل و عیال مسلمان ہوں اور ان کافر ماں باپ کی بُرائی کرنے سے انہیں ایذا پہنچے تو اس سے بچنا ضروری ہے کہ اب یہ ایذا ے مُسلِم ہے اور مسلمان کو ایذا دینا جائز نہیں۔  (نزھۃ القاری،ج۲،ص۸۸۶)

روزنامہ حدیث نمبر 44: لذتوں کو ختم کرنے والی موت

0 comments

    ہر شخص کی موت اس کی دنیاوی لذتیں کھانے پینے سونے وغیرہ کے مزے فنا کر دیتی ہے ۔ہاں مومن مردے کو زندوں کے ذکر اور تلاوت قرآن سے لذت آتی ہے نیز زیارتِ قبر کرنے والے سے انس ہوتا ہے برزخی (یعنی عالَمِ برزخ کی) لذتیں پاتا ہے جو یہاں کی لذتوں سے کہیں اعلیٰ ہیں۔ علماء فرماتے ہیں اور جو روزانہ موت کو یاد کر لیا کرے اس کے لیے درجہ شہادت ہے۔  (مراٰۃ المناجیح،ج ۲،ص۴۳۹)

    اس حدیث میں موت کویاد کرنے کی تاکید اس لئے کی گئی تاکہ ہم قیامت کے امتحان اور زادِ آخرت کے حصول سے غافل نہ ہوجائیں ۔  (مرقاۃ المفاتیح ، ج۴،ص۷۴)

روزنامہ حدیث نمبر 46: شہید اور قرض

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 46: شہید اور قرض

    راہِ خدا میں شہید ہونا ہر گناہ کا  کفّارہ بن جاتا ہے سوائے قرض کے ،امام جلال الدین سیوطی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے بیان کیا کہ سمندر کے شہید اس سے مستثنیٰ ہیں کہ ان کی شہادت قرض کا بھی کفّارہ بن جاتی ہے ۔  (اشعۃ اللمعات،ج۳،ص۳۵۷)

    قرض سے مراد وہ قرض ہے جس کا مطالبہ کرنے کا حق بندے کو ہو خواہ بیوی کا دَین مہر ہو یا کسی سے لیا ہوا قرض یا ماری ہوئی امانت یا غصب کیا ہوا مال کہ یہ ہی بندوں کے حقوق ہیں۔  (مراٰۃ المناجیح،ج ۵،ص۴۲۲)

روزنامہ حدیث نمبر 47: شہادت کی طلب

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 47: شہادت کی طلب

    اس طرح کہ دل سے شہادت کی آرزو کرے،زبان سے دعا کرے اور بقدر طاقت جہاد کی تیاری کرے ،موقعہ کی تاک میں رہے، صرف سچی دعا کو بھی بعض شارحین نے اسی میں داخل فرمایا ہے۔شہادت کا مرتبہ اس طرح عطا ہوگا کہ یہ حکمی شہید ہوگا ،جو جنت میں شہداء کے ساتھ رہیگا۔ رب تعالیٰ کی عطا ہمارے وہم وگمان سے وراء ہے۔  (مراٰۃ المناجیح،ج ۵،ص۴۲۳)