Thursday, April 23, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 65: جنت کا باغ

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 65: جنت کا باغ





Monday, April 20, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 63: کامل مومن

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 63: کامل مومن

Saturday, April 18, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 62: افضل اسلام

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 62: افضل اسلام





روزنامہ حدیث نمبر 61: ایمان کی شاخیں

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 61: ایمان کی شاخیں

روزنامہ حدیث نمبر 60: بلا وجہ طلاق

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 60: بلا وجہ طلاق

Thursday, April 16, 2015

Wednesday, April 15, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 58: عورت اور پردہ

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 58: عورت اور پردہ



Tuesday, April 14, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 57: شوہر کی اطاعت

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 57: شوہر کی اطاعت


Saturday, April 4, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 50: دنیا کی بہترین متاع

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 50: دنیا کی بہترین متاع

    انسان دنیا کو برَتْ کر چھوڑ جاتا ہے, رب تعالیٰ فرماتا ہے '' قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ'' ترجمہ کنزالایمان:تم فرما دو کہ دُنیا کا برتنا تھوڑا ہے ۔۵،النساء ۷۷)

    صوفیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ،اگر دنیا دین سے مل جائے تو لازوال دولت ہے قطرے کو ہزار خطرے ہیں دریا سے مل جائے توروانی طغیانی سب کچھ اس میں آجاتی ہے اور خطرات سے باہر ہو جاتا ہے۔
    عورت کو بہترین متاع اس لئے فرمایا گیا کہ نیک بیوی مرد کو نیک بنا دیتی ہے،وہ اُخروی نعمتوں سے ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے '' رَبَّنَا اٰ تِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً'' کی تفسیر میں فرمایا (یعنی ) خدایا ہم کو دنیا میں نیک بیوی دے اور آخرت میں اعلیٰ حور عطا فرما اور آگ'' یعنی خراب بیوی'' کے عذاب سے بچا۔جیسے اچھی بیوی خدا کی رحمت ہے ایسی ہی بری بیوی خدا کا عذاب ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، ج ۵،ص۴)

روزنامہ حدیث نمبر 49: موت کے وقت تلقین

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 49: موت کے وقت تلقین

     کلمہ طیبہ سکھانے کا یہ حکم استحبابی ہے اوریہی جمہور علماء کا مذہب ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو مررہا ہو اسے کلمہ سکھاؤ اس طرح کہ اسکے پاس بلند آواز سے کلمہ پڑھو اسکا حکم نہ دو کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ جس کا آخری کلام لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ ہو وہ جنتی ہے۔  (المستدرک للحاکم،کتاب الدعاء...الخ،باب من کان آخر کلامہ...الخ، الحدیث۱۸۸۵،ج۲،ص۱۷۵)
خیال رہے کہ اگر مومن بوقت موت کلمہ نہ پڑھ سکے جیسے بیہوش یا شہید وغیرہ تو وہ ایمان پر ہی مرا کہ زندگی میں مومن تھا لہٰذا اب بھی مومن بلکہ اگر نزع کی غشی میں اسکے منہ سے کلمہ کفر سنا جائے تب بھی وہ مومن ہی ہو گا اسکا کفن دفن نماز سب کچھ ہوگی،کیونکہ غشی کی حالت کا اِرتداد معتبر نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مرتے وقت کلمہ پڑھانا اس حدیث مذکورہ پر عمل کے لیے ہے نہ کہ اسے مسلمان بنانے کیلئے،مسلمان تو وہ پہلے ہی ہے۔  (مراٰۃ المناجیح، ج ۲،ص۴۴۴)

    وقتِ موت کا آجانا بطورِ عادت یقینامعلوم ہوجاتا ہے ۔علماء کرام رحمہم اللہ نے فرمایا:کہ موت کا وقت آجانے کی (بعض) علامات یہ ہیں: (۱) اس وقت پاؤں اس قدر سست ہوجاتے ہیں کہ اگر انہیں کھڑا کیا جائے تو کھڑے نہیں رہ سکتے ، (۲)ناک ٹیڑھی ہوجاتی ہے ، (۳)آنکھوں اور کان کے درمیانی حصہ کا لٹک جانا۔  (ماخوذ از اشعۃ اللمعات ، ج۱،ص۷۰۴)
تلقین کا طریقہ:

    صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی اپنی مایہ ناز تالیف بہار شریعت میں لکھتے ہیں : جانکنی کی حالت میں جب تک روح گلے کو نہ آئی( ہو) مرنے والے کو تلقین کریں یعنی اس کے پاس بلند آواز سے اَشْھَدُ اَنْ لَّآاِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللہِ پڑھیں مگراسے ( یعنی مرنے والے کو) اس کے کہنے کا حکم نہ کریں۔جب اس (یعنی مرنے والے ) نے کلمہ پڑھ لیا تو تلقین موقوف کردیں۔ہاں اگر کلمہ پڑھنے کے بعد ا س نے کوئی بات کی تو پھر تلقین کریں کہ اس کا آخر کلام لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ہو۔  (بہار شریعت،حصہ ۴، ص۱۵۷)

روزنامہ حدیث نمبر 48: سورۃ یٰس

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 48: سورۃ یٰس

    ظاہر مرا دیہ ہے کہ موت کے وقت سوره  یٰس پڑھی جائے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ موت کے بعد گھر میں پڑھی جائے یا قبر کے سرہانے پڑھی جائے۔

 (اشعۃ اللمعات، ج۱، ص۷۰۶)

    قراٰن مجید کی ہر سورۃ میں کوئی خاص فائدہ ہوتا ہے سورہ  یٰس میں حل مشکلات کی تاثیر ہے۔  (مراۃ المناجیح، ج ۲،ص۴۴۶)

Friday, April 3, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 45: مردوں کا تذکرہ خیر

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 45: مردوں کا تذکرہ خیر

اس حدیث کا مطلب یہ ہے مسلمان کی بعدِموت اچھائیاں کبھی کبھی بیان کیا کرو کہ نیکوں کے ذکر سے رحمت اترتی ہے ۔ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو کیونکہ مردے کی غیبت زندہ کی غیبت سے سخت تر ہے کہ زندہ سے معافی مانگی جاسکتی ہے مردے سے نہیں۔اسی لیے علماء رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر غسّال مردے پر کوئی نیک علامت دیکھے خوشبو یا چہرے کا نور، تو لوگوں میں چرچا کرے، اور اگر بری علامت دیکھے بدبو یا چہرے کا بگڑ جانا تو اس کا کسی سے ذکر نہ کرے، کیونکہ ہمیں بھی مرنا ہے، نہ معلوم ہمارا کیا حال ہو ،بے دین کی برائی ضرور کرے تاکہ لوگ بے دینی سے بچیں،یزید و حجّاج وغیرہ کو آج بھی برا کہا جاتا ہے کیونکہ یہ فسّاق ہیں، ان کا فسق ظاہر کرو تاکہ (لوگ) ان جیسے کا موں سے بچیں۔  (مراٰۃ المناجیح، ج ۲،ص۴۸۱)

    کُفّار کی بُرائیاں بیان کرنی جائز ہیں اگر چہ وہ مرگئے ہوں البتہ اگر مرنے والے کفار کے اہل و عیال مسلمان ہوں اور ان کافر ماں باپ کی بُرائی کرنے سے انہیں ایذا پہنچے تو اس سے بچنا ضروری ہے کہ اب یہ ایذا ے مُسلِم ہے اور مسلمان کو ایذا دینا جائز نہیں۔  (نزھۃ القاری،ج۲،ص۸۸۶)

روزنامہ حدیث نمبر 44: لذتوں کو ختم کرنے والی موت

0 comments

    ہر شخص کی موت اس کی دنیاوی لذتیں کھانے پینے سونے وغیرہ کے مزے فنا کر دیتی ہے ۔ہاں مومن مردے کو زندوں کے ذکر اور تلاوت قرآن سے لذت آتی ہے نیز زیارتِ قبر کرنے والے سے انس ہوتا ہے برزخی (یعنی عالَمِ برزخ کی) لذتیں پاتا ہے جو یہاں کی لذتوں سے کہیں اعلیٰ ہیں۔ علماء فرماتے ہیں اور جو روزانہ موت کو یاد کر لیا کرے اس کے لیے درجہ شہادت ہے۔  (مراٰۃ المناجیح،ج ۲،ص۴۳۹)

    اس حدیث میں موت کویاد کرنے کی تاکید اس لئے کی گئی تاکہ ہم قیامت کے امتحان اور زادِ آخرت کے حصول سے غافل نہ ہوجائیں ۔  (مرقاۃ المفاتیح ، ج۴،ص۷۴)

روزنامہ حدیث نمبر 46: شہید اور قرض

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 46: شہید اور قرض

    راہِ خدا میں شہید ہونا ہر گناہ کا  کفّارہ بن جاتا ہے سوائے قرض کے ،امام جلال الدین سیوطی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے بیان کیا کہ سمندر کے شہید اس سے مستثنیٰ ہیں کہ ان کی شہادت قرض کا بھی کفّارہ بن جاتی ہے ۔  (اشعۃ اللمعات،ج۳،ص۳۵۷)

    قرض سے مراد وہ قرض ہے جس کا مطالبہ کرنے کا حق بندے کو ہو خواہ بیوی کا دَین مہر ہو یا کسی سے لیا ہوا قرض یا ماری ہوئی امانت یا غصب کیا ہوا مال کہ یہ ہی بندوں کے حقوق ہیں۔  (مراٰۃ المناجیح،ج ۵،ص۴۲۲)

روزنامہ حدیث نمبر 47: شہادت کی طلب

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 47: شہادت کی طلب

    اس طرح کہ دل سے شہادت کی آرزو کرے،زبان سے دعا کرے اور بقدر طاقت جہاد کی تیاری کرے ،موقعہ کی تاک میں رہے، صرف سچی دعا کو بھی بعض شارحین نے اسی میں داخل فرمایا ہے۔شہادت کا مرتبہ اس طرح عطا ہوگا کہ یہ حکمی شہید ہوگا ،جو جنت میں شہداء کے ساتھ رہیگا۔ رب تعالیٰ کی عطا ہمارے وہم وگمان سے وراء ہے۔  (مراٰۃ المناجیح،ج ۵،ص۴۲۳)

Tuesday, March 31, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 43: بیماری اور دوا

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 43: بیماری اور دوا

    دواشفا کے لئے علت نہیں ہے ،شفا اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہے ۔موت اور بڑھاپے کے سوا ہر مرض کی دوا ہے ۔جب اللہ عزوجل کسی کو شفادینا چاہتا ہے تو طبیب کا دماغ اس کی دوا تک پہنچ جاتا ہے ورنہ طبیب کا دماغ الٹا چلتا ہے اور وہ علاج غلط کرتا ہے ۔  (اشعۃ اللمعات ،ج۳،ص۶۳۹ و مراٰۃ المناجیح ،ج۶،ص۲۱۴)

    صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنیفرماتے ہیں کہ دوا یعنی علاج کرنا جائز ہے جبکہ یہ اعتقاد ہوکہ شافی اللہ تعالیٰ ہے اس نے دوا کو ازالہ مرض کیلئے سبب بنادیا ہے اور اگر دوا ہی کو شفا دینے والا سمجھتا ہوتو ناجائز ہے۔

 (بہار شریعت،حصہ ۱۶،ج۳،ص۱۲۶)

Monday, March 30, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 42: بخار کی برکتیں

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 42: بخار کی برکتیں


اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ربِ کائنات عزوجل کی بھیجی ہوئی بیماریوں کو بُرا کہنا سخت جرم ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح ،ج۲،ص۴۳۰)

    دیگربیماریاں جسم کے ایک یا دوحصوں تک محدود رہتی ہیں جبکہ بخار سر سے پاؤں تک ہر رگ میں اثر کرتا ہے ،لہٰذایہ سارے جسم کی خطاؤں اور گناہوں کو معاف کرائے گا ۔ (ماخوذ ازمراٰۃ المناجیح ،ج۲،ص۴۱۳)

    ایک اور حدیث میں ہےکہ حضرتِ سیدنا ابودَرْدَاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو فرماتے ہو ے سنا،''جومسلمان بخار اور دردِ سر میں مبتلا ہوااور اس کے سر پر احد پہاڑسے زیادہ گناہ ہوں جب یہ اسے چھوڑتے ہیں تو اس کے سر پر رائی کے دانہ برابر گناہ نہیں ہوتے ۔''

(مسند احمد بن حنبل ،مسند ابودَرْدَاء، الحدیث ۲۱۷۹۵، ج۸، ص ۱۷۲)

     حضرتِ سیدنا حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ مسلمان کے ایک رات بخار میں مبتلا ہونے کو اس کے تمام گناہوں کا کفّارہ بنا دیتا ہے ۔

(التر غیب والتر ھیب ، کتاب الجنائز ، باب التر غیب فی الصبر...الخ ،الحدیث۷۸ ،ج۴ ،ص ۱۵۳)

    اور حضرتِ سیدنا ابی بن کَعْب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: ''یا رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم !بخار کا ثواب کیا ہے ؟''ارشاد فرمایا: ''جب تک بخار میں مبتلاشخص کے قد م میں درد رہتا ہے اور اس کی رگ پھڑکتی رہتی ہے اسے اسکے عو ض نیکیاں ملتی رہتی ہیں۔'' توحضرتِ سیدنا ابی بن کَعْب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دعا کی : ''اے اللہ عزوجل !میں تجھ سے ایسے بخار کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری راہ میں جہاد کرنے، تیرے گھر اور تیرے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی مسجد شریف کی طرف جانے سے نہ روکے۔'' اس کے بعد حضرتِ سیدنا ابی بن کَعْب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روزانہ شام کے وقت بخار ہوجایا کرتا تھا۔

(التر غیب والترھیب ،کتاب الجنائز ، باب التر غیب فی الصبر ...الخ ،الحدیث ۸۲ ، ج ۴ ، ص ۱۵۳)

Sunday, March 29, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 41: سو شہیدوں کا ثواب

0 comments

فسادِ اُمت سے سنّت چھوڑ دینااور اس میں کمی وکوتاہی کرنا مراد ہے ۔اور سوشہید کے لفظ سے اس کی طرف اشارہ ہے کہ ایسے وقت میں سنّت پر عمل بڑی مشقت اور جدوجہد سے ہوسکے گا لیکن اس کی فضیلت اور ثواب بہت زیادہ ہوگا ۔(اشعۃ اللمعات،ج۱،ص۱۵۵)
شہید کا ثواب کتنا ہے اسے اس فرمانِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے سمجھئے ،چنانچہ حضرتِ سیدنامِقدام بن مَعدِی کَرِبَ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' بیشک اللہ عزوجل شہیدکو چھ انعام عطا فرماتاہے ،(۱)اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت فرمادیتا ہے اور جنت میں اسے اس کا ٹھکانا دکھا دیتا ہے (۲) اسے عذاب قبرسے محفوظ فرماتا ہے،(۳)قیامت کے دن اسے بڑی گھبراہٹ سے امن عطا فرمائے گا،(۴)اس کے سرپر وقار کا تاج رکھے گا جس کا یاقوت دنیا اور اس کی ہرچیز سے بہتر ہو گا، (۵) اس کا حوروں میں سے 72حوروں کے ساتھ نکاح کرائے گا، (۶) اس کی 70 رشتہ داروں کے حق میں شفاعت قبول فرمائے گا۔''

(ابن ماجہ، کتاب الجہاد، باب فضل الشھادۃ فی سبیل اللہ، الحدیث ۲۷۹۹ ،ج۳ ،ص ۳۶۰ )

    فسادِ امت کے وقت سنّت کو مضبوطی سے تھامنے والے کے لئے سوشہیدوں کے ثواب کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شہید تو ایک بار تلوار کا زخم کھا کر پار ہوجاتا ہے مگر یہ بندہ خدا عمربھر لوگوں کے طعنے اور زبانوں کے گھاؤ کھاتا رہتا ہے ، اللہ اور رسول عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خاطر سب کچھ برداشت کرتا ہے اس کا جہاد جہادِ اکبر ہے جیسے اس زمانہ میں داڑھی رکھنا اور سود سے بچنا وغیرہ ۔(ماخوذ از مراٰۃ المناجیح،ج۱،ص۱۷۳)

Saturday, March 28, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 40: بدمذہب کی عزت کرنا کیسا

0 comments

یہاں صاحب ِبدعت سے مراد بے دین شخص اور توقیر سے اس کی بلاضرورت تعظیم مراد ہے ۔اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بے دینوں کی تعظیم گویا اسلام کو ویران کرنا ہے کہ ہماری تعظیم سے عوام کے دلوں میں ان کی عقیدت پیدا ہوگی ،جس سے وہ ان کا شکار بن سکتے ہیں ،جس طرح مسلمان کی تعظیم کارِ ثواب ہے ایسے ہی بے دین کی توہین باعث ِ ثواب کہ وہ دشمنِ ایمان ہے ۔(ماخوذ ازمراٰۃ المناجیح،ج۱،ص۱۷۹)
    بے دین وبد مذہب سے کس طرح کا برتاؤ کرنا چاہیے اس کے متعلق چند احاد یث مبارکہ میں ارشاد ہواہے کہ:
    تقدیرِ الٰہی عزوجل کو جھٹلانے والے اس اُمّت کے مجوسی ہیں،(یہ) اگر بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو،اگر مرجائیں توان کے جنازے میں شریک نہ ہو،ان سے ملاقات ہوتو انہیں سلام نہ کرو۔(سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،باب فی القدر،الحدیث۹۲،ج۱ ،ص۷۰)
    بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لئے اصحاب واصہار پسند کئے اور قریب ایک قوم آئے گی کہ انہیں برا کہے گی اور ان کی شان گھٹائے گی تم ان کے پاس مت بیٹھنا ،نہ ان کے ساتھ پانی پینانہ کھاناکھانا،نہ شادی بیاہ کرنا۔

 (کتاب الضعفاء للعقیلی،الحدیث۱۵۴،ج۱،ص۱۴۴)

    ان کے جنازے کی نماز نہ پڑھو اور نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو۔

 (العلل المتناھیۃ،کتاب السنۃو ذم البدع،باب ذم الرافضۃ،الحدیث۲۶۰،ج۱،ص۱۶۸)

Friday, March 27, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 39: کامل مومن

0 comments

یہاں مومن سے مراد مومن ِ کامل ہے ۔(مرقاۃ المفاتیح ،ج۱،ص۱۴۴)اور سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زیادہ محبوب ہونے کامطلب یہ ہے کہ حقوق کی ادائیگی میں سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اونچا مانے اس طرح کہ آپ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کے لائے ہوئے دین کو تسلیم کرے،آپ(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کی تعظیم وادب بجالائے اور ہر شخص اور ہر چیز یعنی اپنی ذات،اپنی اولاد،اپنے ماں باپ،اپنے عزیزواقارب اور اپنے مال واسباب پر آپ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کی رضا وخوشی کو مقدم رکھے۔ (ماخوذازاشعۃاللمعات، ج۱،کتاب الایمان،فصل اول ،ص۵۰)

یہاں محبوب سے مراد طبعی محبوب ہے نہ کہ صرف عقلی کیونکہ اولاد کو ماں باپ سے طبعی الفت ہوتی ہے ،یہی محبت حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ ہونی چاہے۔(ماخوذ از مراٰۃ المناجیح،ج۱،ص۳۰)
     انسان کبھی اس چیز سے محبت کرتا ہے جس سے اس کے حواس کو لذت حاصل ہوتی ہے مثلاً حسین و جمیل صورتیں، اچھی آوازیں۔ کبھی ان چیزوں سے محبت کرتا ہے جن سے اس کی عقل کو لذت حاصل ہوتی ہے مثلاً علم و حکمت کی باتیں، تقویٰ و طہارت، علماء و متقی لوگ۔ اور کبھی اس شخص سے محبت کرتا ہے جو اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرے اور اس سے شر اور ضرر(یعنی نقصان) کو دور کرے۔

 (ماخوذازشرح مسلم للنووی،کتاب الایمان،باب خصائل من اتصف بھنّ وجد حلاوۃالایمان، ج ۱، ص۴۹)

    اور چونکہ محبوبِ رب العٰلمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم محبت کئے جانے کے تمام اسباب کے ایسے جامع ہیں کہ آپ کے سوا کوئی دوسرا اس جامعیت کو نہیں پہنچ سکتا لہٰذا آپ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) ہر مومن کے نزدیک اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب ہونے کے مستحق ہیں اور خاص کر اس صورت میں زیادہ محبوب ہیں کہ آپ محبوبِ حقیقی یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے رسول ہیں اور خدا تک پہنچانے والے اور اس کی بارگاہ میں عزت و عظمت والے ہیں۔

    (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃالمصابیح،ج ۱،ص۱۴۵)

Wednesday, March 25, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 38: اللہ کے لیے محبت

0 comments

اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے محبت کا مطلب یہ ہے کہ کسی سے اس لئے محبت کی جائے کہ وہ دیندار ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے عداوت کا مطلب یہ ہے کہ کسی سے عداوت ہو تو اس بنا پر ہو کہ وہ دین کا دشمن ہے یا دیندار نہیں۔(نزھۃ القاری،ج۱، ص۲۹۵) امام غزالی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں اگر کوئی شخص باورچی سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ اس سے اچھا کھانا پکواکر فقراء کو بانٹے تو یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے محبت ہے اور اگر عالم دین سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ اس سے علم دین سیکھ کر دنیا کمائے تو یہ دنیا کے لئے محبت ہے۔  (مرأۃ المناجیح،ج۱،ص۵۴)
     حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رحمتِ عالم ، نورِمجسم ،شہنشاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمانِ عالیشان ہے :''یہ بات ایمان سے ہے کہ ایک شخص دوسرے سے فقط اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے محبت کرے اس میں دیئے جانے والے مال کا دَخْل نہ ہوتوایسی محبت ایمان(کاحصہ)ہے ۔''

 (المعجم الاوسط ، رقم الحدیث۷۲۱۴، ج۵،ص۲۴۵)

    امام نووی علیہ رحمۃاللہ الولی فرماتے ہیں :''اللہ اوررسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں زندہ اورانتقال کرجانے والے اولیاء وصالحین رحمہم اللہ تعالیٰ کی محبت بھی شامل ہے اوراللہ ورسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی افضل ترین محبت یہ ہے ان کے احکام پرعمل اورنواہی سے اجتناب کیاجائے ۔

 (شرح مسلم للنووی،کتاب البر والصلہ،باب المرء مع من احب،ج۲ص۳۳۱)
الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے اکابرین الْحُبُّ فِی اللہِ وَالْـبُغْضُ فِی اللہِ کی چلتی پھرتی تصویر تھے ۔چنانچہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہٗنے جنگِ اُحد میں اپنے باپ جراح کو قتل کیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے روز بدر اپنے بیٹے عبدالرحمن کو مُبَارَزَت (یعنی مقابلے)کیلئے طلب کیا لیکن رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں اس جنگ کی اجازت نہ دی اور سیِّدُنامعصب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗنے اپنے بھائی عبداللہ بن عمیر کو قتل کیا اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہٗنے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو روز بدر قتل کیا اور حضرت علی بن ابی طالب و حمزہ و ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ربیعہ کے بیٹوں عتبہ اور شیبہ کو اور ولید بن عتبہ کو بدر میں قتل کیا جوان کے رشتہ دار تھے خدا اور رسول پر ایمان لانے والوں کو قرابت اور رشتہ داری کا کیا پاس۔

 (تفسیر خزائن العرفان ،المجادلہ،تحت الاٰیۃ۲۲)