Tuesday, March 31, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 43: بیماری اور دوا

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 43: بیماری اور دوا

    دواشفا کے لئے علت نہیں ہے ،شفا اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہے ۔موت اور بڑھاپے کے سوا ہر مرض کی دوا ہے ۔جب اللہ عزوجل کسی کو شفادینا چاہتا ہے تو طبیب کا دماغ اس کی دوا تک پہنچ جاتا ہے ورنہ طبیب کا دماغ الٹا چلتا ہے اور وہ علاج غلط کرتا ہے ۔  (اشعۃ اللمعات ،ج۳،ص۶۳۹ و مراٰۃ المناجیح ،ج۶،ص۲۱۴)

    صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنیفرماتے ہیں کہ دوا یعنی علاج کرنا جائز ہے جبکہ یہ اعتقاد ہوکہ شافی اللہ تعالیٰ ہے اس نے دوا کو ازالہ مرض کیلئے سبب بنادیا ہے اور اگر دوا ہی کو شفا دینے والا سمجھتا ہوتو ناجائز ہے۔

 (بہار شریعت،حصہ ۱۶،ج۳،ص۱۲۶)

Monday, March 30, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 42: بخار کی برکتیں

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 42: بخار کی برکتیں


اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ربِ کائنات عزوجل کی بھیجی ہوئی بیماریوں کو بُرا کہنا سخت جرم ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح ،ج۲،ص۴۳۰)

    دیگربیماریاں جسم کے ایک یا دوحصوں تک محدود رہتی ہیں جبکہ بخار سر سے پاؤں تک ہر رگ میں اثر کرتا ہے ،لہٰذایہ سارے جسم کی خطاؤں اور گناہوں کو معاف کرائے گا ۔ (ماخوذ ازمراٰۃ المناجیح ،ج۲،ص۴۱۳)

    ایک اور حدیث میں ہےکہ حضرتِ سیدنا ابودَرْدَاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو فرماتے ہو ے سنا،''جومسلمان بخار اور دردِ سر میں مبتلا ہوااور اس کے سر پر احد پہاڑسے زیادہ گناہ ہوں جب یہ اسے چھوڑتے ہیں تو اس کے سر پر رائی کے دانہ برابر گناہ نہیں ہوتے ۔''

(مسند احمد بن حنبل ،مسند ابودَرْدَاء، الحدیث ۲۱۷۹۵، ج۸، ص ۱۷۲)

     حضرتِ سیدنا حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ مسلمان کے ایک رات بخار میں مبتلا ہونے کو اس کے تمام گناہوں کا کفّارہ بنا دیتا ہے ۔

(التر غیب والتر ھیب ، کتاب الجنائز ، باب التر غیب فی الصبر...الخ ،الحدیث۷۸ ،ج۴ ،ص ۱۵۳)

    اور حضرتِ سیدنا ابی بن کَعْب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: ''یا رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم !بخار کا ثواب کیا ہے ؟''ارشاد فرمایا: ''جب تک بخار میں مبتلاشخص کے قد م میں درد رہتا ہے اور اس کی رگ پھڑکتی رہتی ہے اسے اسکے عو ض نیکیاں ملتی رہتی ہیں۔'' توحضرتِ سیدنا ابی بن کَعْب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دعا کی : ''اے اللہ عزوجل !میں تجھ سے ایسے بخار کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری راہ میں جہاد کرنے، تیرے گھر اور تیرے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی مسجد شریف کی طرف جانے سے نہ روکے۔'' اس کے بعد حضرتِ سیدنا ابی بن کَعْب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روزانہ شام کے وقت بخار ہوجایا کرتا تھا۔

(التر غیب والترھیب ،کتاب الجنائز ، باب التر غیب فی الصبر ...الخ ،الحدیث ۸۲ ، ج ۴ ، ص ۱۵۳)

Sunday, March 29, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 41: سو شہیدوں کا ثواب

0 comments

فسادِ اُمت سے سنّت چھوڑ دینااور اس میں کمی وکوتاہی کرنا مراد ہے ۔اور سوشہید کے لفظ سے اس کی طرف اشارہ ہے کہ ایسے وقت میں سنّت پر عمل بڑی مشقت اور جدوجہد سے ہوسکے گا لیکن اس کی فضیلت اور ثواب بہت زیادہ ہوگا ۔(اشعۃ اللمعات،ج۱،ص۱۵۵)
شہید کا ثواب کتنا ہے اسے اس فرمانِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے سمجھئے ،چنانچہ حضرتِ سیدنامِقدام بن مَعدِی کَرِبَ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' بیشک اللہ عزوجل شہیدکو چھ انعام عطا فرماتاہے ،(۱)اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت فرمادیتا ہے اور جنت میں اسے اس کا ٹھکانا دکھا دیتا ہے (۲) اسے عذاب قبرسے محفوظ فرماتا ہے،(۳)قیامت کے دن اسے بڑی گھبراہٹ سے امن عطا فرمائے گا،(۴)اس کے سرپر وقار کا تاج رکھے گا جس کا یاقوت دنیا اور اس کی ہرچیز سے بہتر ہو گا، (۵) اس کا حوروں میں سے 72حوروں کے ساتھ نکاح کرائے گا، (۶) اس کی 70 رشتہ داروں کے حق میں شفاعت قبول فرمائے گا۔''

(ابن ماجہ، کتاب الجہاد، باب فضل الشھادۃ فی سبیل اللہ، الحدیث ۲۷۹۹ ،ج۳ ،ص ۳۶۰ )

    فسادِ امت کے وقت سنّت کو مضبوطی سے تھامنے والے کے لئے سوشہیدوں کے ثواب کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شہید تو ایک بار تلوار کا زخم کھا کر پار ہوجاتا ہے مگر یہ بندہ خدا عمربھر لوگوں کے طعنے اور زبانوں کے گھاؤ کھاتا رہتا ہے ، اللہ اور رسول عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خاطر سب کچھ برداشت کرتا ہے اس کا جہاد جہادِ اکبر ہے جیسے اس زمانہ میں داڑھی رکھنا اور سود سے بچنا وغیرہ ۔(ماخوذ از مراٰۃ المناجیح،ج۱،ص۱۷۳)

Saturday, March 28, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 40: بدمذہب کی عزت کرنا کیسا

0 comments

یہاں صاحب ِبدعت سے مراد بے دین شخص اور توقیر سے اس کی بلاضرورت تعظیم مراد ہے ۔اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بے دینوں کی تعظیم گویا اسلام کو ویران کرنا ہے کہ ہماری تعظیم سے عوام کے دلوں میں ان کی عقیدت پیدا ہوگی ،جس سے وہ ان کا شکار بن سکتے ہیں ،جس طرح مسلمان کی تعظیم کارِ ثواب ہے ایسے ہی بے دین کی توہین باعث ِ ثواب کہ وہ دشمنِ ایمان ہے ۔(ماخوذ ازمراٰۃ المناجیح،ج۱،ص۱۷۹)
    بے دین وبد مذہب سے کس طرح کا برتاؤ کرنا چاہیے اس کے متعلق چند احاد یث مبارکہ میں ارشاد ہواہے کہ:
    تقدیرِ الٰہی عزوجل کو جھٹلانے والے اس اُمّت کے مجوسی ہیں،(یہ) اگر بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو،اگر مرجائیں توان کے جنازے میں شریک نہ ہو،ان سے ملاقات ہوتو انہیں سلام نہ کرو۔(سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،باب فی القدر،الحدیث۹۲،ج۱ ،ص۷۰)
    بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لئے اصحاب واصہار پسند کئے اور قریب ایک قوم آئے گی کہ انہیں برا کہے گی اور ان کی شان گھٹائے گی تم ان کے پاس مت بیٹھنا ،نہ ان کے ساتھ پانی پینانہ کھاناکھانا،نہ شادی بیاہ کرنا۔

 (کتاب الضعفاء للعقیلی،الحدیث۱۵۴،ج۱،ص۱۴۴)

    ان کے جنازے کی نماز نہ پڑھو اور نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو۔

 (العلل المتناھیۃ،کتاب السنۃو ذم البدع،باب ذم الرافضۃ،الحدیث۲۶۰،ج۱،ص۱۶۸)

Friday, March 27, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 39: کامل مومن

0 comments

یہاں مومن سے مراد مومن ِ کامل ہے ۔(مرقاۃ المفاتیح ،ج۱،ص۱۴۴)اور سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زیادہ محبوب ہونے کامطلب یہ ہے کہ حقوق کی ادائیگی میں سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اونچا مانے اس طرح کہ آپ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کے لائے ہوئے دین کو تسلیم کرے،آپ(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کی تعظیم وادب بجالائے اور ہر شخص اور ہر چیز یعنی اپنی ذات،اپنی اولاد،اپنے ماں باپ،اپنے عزیزواقارب اور اپنے مال واسباب پر آپ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کی رضا وخوشی کو مقدم رکھے۔ (ماخوذازاشعۃاللمعات، ج۱،کتاب الایمان،فصل اول ،ص۵۰)

یہاں محبوب سے مراد طبعی محبوب ہے نہ کہ صرف عقلی کیونکہ اولاد کو ماں باپ سے طبعی الفت ہوتی ہے ،یہی محبت حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ ہونی چاہے۔(ماخوذ از مراٰۃ المناجیح،ج۱،ص۳۰)
     انسان کبھی اس چیز سے محبت کرتا ہے جس سے اس کے حواس کو لذت حاصل ہوتی ہے مثلاً حسین و جمیل صورتیں، اچھی آوازیں۔ کبھی ان چیزوں سے محبت کرتا ہے جن سے اس کی عقل کو لذت حاصل ہوتی ہے مثلاً علم و حکمت کی باتیں، تقویٰ و طہارت، علماء و متقی لوگ۔ اور کبھی اس شخص سے محبت کرتا ہے جو اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرے اور اس سے شر اور ضرر(یعنی نقصان) کو دور کرے۔

 (ماخوذازشرح مسلم للنووی،کتاب الایمان،باب خصائل من اتصف بھنّ وجد حلاوۃالایمان، ج ۱، ص۴۹)

    اور چونکہ محبوبِ رب العٰلمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم محبت کئے جانے کے تمام اسباب کے ایسے جامع ہیں کہ آپ کے سوا کوئی دوسرا اس جامعیت کو نہیں پہنچ سکتا لہٰذا آپ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) ہر مومن کے نزدیک اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب ہونے کے مستحق ہیں اور خاص کر اس صورت میں زیادہ محبوب ہیں کہ آپ محبوبِ حقیقی یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے رسول ہیں اور خدا تک پہنچانے والے اور اس کی بارگاہ میں عزت و عظمت والے ہیں۔

    (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃالمصابیح،ج ۱،ص۱۴۵)

Wednesday, March 25, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 38: اللہ کے لیے محبت

0 comments

اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے محبت کا مطلب یہ ہے کہ کسی سے اس لئے محبت کی جائے کہ وہ دیندار ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے عداوت کا مطلب یہ ہے کہ کسی سے عداوت ہو تو اس بنا پر ہو کہ وہ دین کا دشمن ہے یا دیندار نہیں۔(نزھۃ القاری،ج۱، ص۲۹۵) امام غزالی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں اگر کوئی شخص باورچی سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ اس سے اچھا کھانا پکواکر فقراء کو بانٹے تو یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے محبت ہے اور اگر عالم دین سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ اس سے علم دین سیکھ کر دنیا کمائے تو یہ دنیا کے لئے محبت ہے۔  (مرأۃ المناجیح،ج۱،ص۵۴)
     حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رحمتِ عالم ، نورِمجسم ،شہنشاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمانِ عالیشان ہے :''یہ بات ایمان سے ہے کہ ایک شخص دوسرے سے فقط اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے محبت کرے اس میں دیئے جانے والے مال کا دَخْل نہ ہوتوایسی محبت ایمان(کاحصہ)ہے ۔''

 (المعجم الاوسط ، رقم الحدیث۷۲۱۴، ج۵،ص۲۴۵)

    امام نووی علیہ رحمۃاللہ الولی فرماتے ہیں :''اللہ اوررسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں زندہ اورانتقال کرجانے والے اولیاء وصالحین رحمہم اللہ تعالیٰ کی محبت بھی شامل ہے اوراللہ ورسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی افضل ترین محبت یہ ہے ان کے احکام پرعمل اورنواہی سے اجتناب کیاجائے ۔

 (شرح مسلم للنووی،کتاب البر والصلہ،باب المرء مع من احب،ج۲ص۳۳۱)
الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے اکابرین الْحُبُّ فِی اللہِ وَالْـبُغْضُ فِی اللہِ کی چلتی پھرتی تصویر تھے ۔چنانچہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہٗنے جنگِ اُحد میں اپنے باپ جراح کو قتل کیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے روز بدر اپنے بیٹے عبدالرحمن کو مُبَارَزَت (یعنی مقابلے)کیلئے طلب کیا لیکن رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں اس جنگ کی اجازت نہ دی اور سیِّدُنامعصب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗنے اپنے بھائی عبداللہ بن عمیر کو قتل کیا اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہٗنے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو روز بدر قتل کیا اور حضرت علی بن ابی طالب و حمزہ و ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ربیعہ کے بیٹوں عتبہ اور شیبہ کو اور ولید بن عتبہ کو بدر میں قتل کیا جوان کے رشتہ دار تھے خدا اور رسول پر ایمان لانے والوں کو قرابت اور رشتہ داری کا کیا پاس۔

 (تفسیر خزائن العرفان ،المجادلہ،تحت الاٰیۃ۲۲)

روزنامہ حدیث نمبر 37: فتنہ باز کی مذمت

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 37: فتنہ باز کی مذمت

کسی دینی فائدے کے بغیرلوگوں کواضطراب، اختلاف،مصیبت اور آزمائش میں مبتلاکرکے نظام زندگی کوبگاڑدینا ''فتنہ ''کہلاتا ہے۔  (الحدیقہ الندیۃ ج ۲،ص۱۴۶) لہٰذا!ہروہ چیزجومسلمانوں کے درمیان فتنے ، شر،عداوت اور بُغْض کاباعث بنے ،ہمیں اس سے بچنا چاہے۔فتنہ کوقرآن پاک میں قتل سے زیادہ سخت کہاگیاہے، اگراسی بات پرغورکرلیا جائے توفتنے سے بچنے کے لئے کافی ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے:

وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ

ترجمہ کنزالایمان :اوران کا فساد تو قتل سے بھی سخت ہے۔   (پ ۲،البقرۃ:۱۹۱ )
    امام بیضاوی علیہ رحمۃاللہ الوالی فتنے کے قتل سے زیادہ سخت وبراہونے کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ''چونکہ قتل کے مقابلے میں فتنے کی تکلیف زیادہ سخت اوراس کارنج واَلَم زیادہ دیرتک قائم رہتاہے اسی لئے اس کوقتل سے زیادہ سخت فرمایاگیا۔''

 (الحدیقۃ الندیۃ ،ج۲،ص۱۵۴)

Sunday, March 22, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 34: مسواک کی فضیلت

0 comments
روزنامہ حدیث نمبر 34: مسواک کی فضیلت

شریعت میں مِسواک سے مُراد وہ لکڑی ہے جس سے دانت صاف کئے جائیں ۔سنّت یہ ہے کہ یہ کسی پھول یا پھلدار درخت کی نہ ہو کڑوے درخت کی ہو ۔موٹائی چھنگلی کے برابر ہو ،لمبائی بَالِشْت سے زیادہ نہ ہو ۔ دانتوں کی چوڑائی میں کی جائے نہ کہ لمبائی میں ۔بے دانت والے اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں دانتوں پر انگلی پھیر لیا کریں ۔ مسواک اتنے مقام پر سنّت ہے : وضو میں ،قراٰن شریف پڑھتے وقت ،دانت پیلے ہونے پر ،بھوک یا دیر تک خاموشی یا بے خوابی کی وجہ سے منہ سے بدبو آنے پر ۔

 (مراٰۃ المناجیح ،کتاب الطہارۃ،باب السواک،ج۱،ص۲۷۵ )

Monday, March 16, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 29: سلام کی اہمیت

0 comments

سلام تین قسم کے ہیں
''سلام اِذْن'' یہ گھر میں داخل ہو نے سے پہلے اجازتِ داخلہ حاصل کرنے کے لئے ہے۔
''سلامِ تَحِیَّۃ '' یہ گھر میں داخل ہونے اور کلام کرنے سے پہلے ہے۔
''سلام وَدَاع'' یہ گھر سے رخصت ہوتے وقت ہے۔
یہاں (یعنی اس حدیث میں)سلام تحیت مراد ہے ،یہ کلام سے پہلے چاہیے تاکہ تحیت باقی رہے جیسے تحیۃ المسجد کے نفل کہ وہ بیٹھنے سے پہلے پڑھے جائیں۔  (مراٰۃ المناجیح،ج۶،ص۳۳۱)

Sunday, March 15, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 28: خوشخبری سناؤ

0 comments

لوگوں کو گذشتہ گناہوں سے توبہ کر نے اور نیک اعمال کر نے پر حق تعالیٰ کی بخشش ورحمت کی خوشخبریاں دو۔ اُن گناہوں کی پکڑ پر اس طرح نہ ڈراؤ کہ انہیں اللہ کی رحمت سے مایوسی ہو کر اسلام سے نفرت ہو جائے۔ بہر حال اِنْذَار اورڈرانا کچھ اور ہے اور مایوس کر کے مُتَنَفَّر(یعنی بددل)کر دینا کچھ اور لہذا یہ حدیث ان آیات و احادیث کے خلاف نہیں جن میں اللہ کی پکڑ سے ڈرانے کا حکم ہے ۔  (مراٰۃ المناجیح،ج۵،ص۳۷۱)

روزنامہ حدیث نمبر 32: مسکین کا حج

0 comments

مَساکین مِسکین کی جمع ہے۔جو شخص حج کے لئے جانے سے عاجِز ہو اُس کا جمعہ کے دن مسجد کی طرف جانا اس کیلئے حج کی مانند ہے۔ (فیض القدیر،تحت الحدیث۳۶۳۶،ج۳،ص۴۷۴)

حج کی قربانی

    حضرتِ سیِّدُنا ربیع بن سلمان علیہ رحمۃ اللہ المنان اپنا ایک ایمان افروز واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ کچھ لوگوں کے ساتھ حج پر جارہا تھا ۔ میرا بھائی بھی میرے ساتھ تھا ۔جب ہم کوفہ پہنچے تو میں ضروریاتِ سفر خریدنے کے لئے بازار کی طرف چلا گیا ۔وہاں میں نے ایک ویران سی جگہ میں دیکھا کہ ایک خچر مرا پڑا ہے اور بہت پرانے اور بوسیدہ کپڑے پہنے ہوئے ایک عورت چاقو سے اس کا گوشت کاٹ کاٹ کر تھیلے میں رکھ رہی ہے۔میں نے سوچا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ عورت کوئی بھٹیارن ہو اوریہی مردار کا گوشت پکا کر لوگوں کو کھلا دے،چنانچہ مجھے اس کی تحقیق ضرور کرنی چاہے ،پس میں چپکے چپکے اس کے پیچھے ہو لیا ۔چلتے چلتے وہ ایک مکان کے دروازے پر پہنچی ،اس نے دروازہ بجایا تو اندر سے پوچھا گیا :''کون؟''تو جواب دیا:''کھولو!میں ہی بدحال ہوں۔''دروازہ کھلا تو میں نے دیکھا کہ چار بچیاں ہیں جن کے چہروں سے بد حالی اور مصیبت ٹپک رہی ہے ۔ وہ عورت اندر داخل ہوگئی اوردروازہ بند ہوگیا ۔میں جلدی سے دروازے کے قریب گیا اور اس کے سوراخوں سے اندر جھانکنے لگا ۔ میں نے دیکھا کہ اندر سے وہ گھر بالکل خالی اوربرباد ہے ۔ اس عورت نے وہ تھیلا ان لڑکیوں کے سامنے رکھ دیا اورروتے ہوئے کہنے لگی :''لو !اس کو پکا لو اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو ۔''
    وہ لڑکیاں اس گوشت کوکاٹ کاٹ کر لکڑیوں پر بھوننے لگیں ۔میرے دل کو اس سے بہت ٹھیس پہنچی اورمیں نے باہر سے آواز دی کہ ،''اے اللہ کی بندی !خدا تعالیٰ کے واسطے اس کو نہ کھا ۔''وہ پوچھنے لگی:''تم کون ہو ؟''میں نے جواب دیا :''میں پردیسی ہوں ۔''اس نے کہا:''ہم تو خود مقدر کے قیدی ہیں ،تین سال سے ہمارا کوئی معین ومددگار نہیں ،تم ہم سے کیا چاہتے ہو ؟''میں نے کہا کہ ''مجوسیوں کے ایک فرقے کے سوا کسی مذھب میں مُردار کھانا جائز نہیں۔''کہنے لگی کہ''ہم خاندانِ نبوت سے ہیں ،ان کا باپ انتقال کر چکا ہے ،جو ترکہ اس نے چھوڑا تھا وہ ختم ہوگیا ۔ ہمیں معلوم ہے کہ مُردار کھانا جائز نہیں لیکن ہمارا چار دن کا فاقہ ہے اور ایسی حالت میں مُردار جائز ہوجاتا ہے ۔''
     اُن کے حالات سن کر مجھے رونا آگیا ،میں انہیں انتطار کرنے کا کہہ کر واپس ہوا اوراپنے بھائی سے کہنے لگا کہ ،''میرا ارادہ حج کا نہیں رہا۔''بھائی نے مجھے بہت سمجھا یا ،فضائل وغیرہ بتائے ۔میں نے کہا کہ ،''بس لمبی چوڑی بات نہ کرو ۔''     پھر میں نے اپنا ِاحرام اور سارا سامان لیا اورنقد چھ سو درھم میں سے سو درھم کا کپڑا خریدا اورسو درھم کا آٹا خریدا اوربقیہ پیسہ اس آٹے میں چھپا کر اس عورت کے گھر لے جا کر تمام چیزیں اس کو دے دیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگی اور کہنے لگی :''اے ابن سلمان !جا اللہ تعالیٰ تیرے اگلے پیچھے سب گناہ معاف فرمائے اورتجھے حج کا ثواب عطا کرے اورجنت میں تجھے جگہ عطا فرمائے اوردنیا ہی میں تجھے ایسا بدل عطا فرمائے جو دنیا میں تجھ پر ظاہر ہو جائے ۔''
    سب سے بڑی لڑکی نے کہا :''اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا دوگنا اجر عطا فرمائے اور آپ کے گناہ بخش دے ۔'' دوسری لڑکی نے کہا کہ ''آپ کو اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ عطا فرمائے جتنا آپ نے ہمیں دیا ۔''تیسری نے کہا کہ ''اللہ تعالیٰ ہمارے نانا جان صلَّی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے ساتھ آپ کا حشر کرے۔''چوتھی نے کہا کہ ،''اے اللہ تعالیٰ ! جس نے ہم پر احسان کیا تُو اس کا نِعْمَ الْبَدَلجلدی عطا کر اور اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے ۔'' پھر میں واپس آگیا ۔
    میں مجبورًا کوفہ ہی میں رک گیا اورباقی ساتھی حج کے لئے روانہ ہو گئے ۔جب حاجی لوٹ کر آنے لگے تو میں نے سوچا کہ''ان کا استقبال کروں اوراپنے لئے دُعا کرنے کا کہوں ،شاید کسی کی مقبول دعا مجھے بھی لگ جائے۔''جب مجھے حاجیوں کا قافلہ نظر آیا تو اپنی حج سے محرومی پر بے اختیار رونا آگیا ۔میں ان سے ملا تو کہا :'' اللہ تعالیٰ تمہارے حج کو قبول فرمائے اور تمہیں اخراجات کا بدلہ عطا فرمائے ۔'' ان میں سے ایک نے پوچھا کہ ''یہ دعا کیسی ؟''میں نے کہا ''یہ اس شخص کی دعا ہے جو دروازے تک کی حاضری سے محروم ہو ۔'' وہ کہنے لگے ،''بڑے تعجب کی بات ہے کہ اب تو وہاں جانے ہی سے انکار کر رہا ہے ۔کیا تو ہمارے ساتھ عَرَفات کے میدان میں نہ تھا ؟...تونے ہمارے ساتھ رَمِیئ جَمَرَات نہ کی ؟ ...اور کیا تو نے ہمارے ساتھ طواف نہ کئے؟''...آپ فرماتے ہیں کہ میں دل ہی دل میں تعجب کرنے لگا کہ اتنے میں خود میرے شہر کا قافلہ بھی آگیا ۔میں نے کہا کہ''اللہ تعالیٰ تمہاری کوششیں قبول فرمائے۔'' تو وہ بھی یہی کہنے لگے کہ'' تُو ہمارے ساتھ عرفات پر نہ تھا ؟یا رمی جمرات نہ کی ؟ اوراب انکار کرتا ہے۔''
    پھر ان میں سے ایک شخص آگے بڑھا اورکہنے لگا کہ ''بھائی !اب کیوں اِنکار کرتے ہو ؟کیاتم ہمارے ساتھ مکے شریف اورمدینہ منورہ میں نہ تھے ؟اور ہم شفیع اعظم صلَّی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی قبرِ انور کی زیارت کر کے واپس آرہے تھے تو رش کی وجہ سے تم نے یہ تھیلی میرے پاس امانت رکھوائی تھی ،جس کی مہر پر لکھا ہوا ہے : ''مَنْ عَامَلَنَا رَبِحَ یعنی جو ہم سے معاملہ کرتا ہے ،نفع کماتا ہے،اب یہ تھیلی واپس لے لو ۔''
    حضرتِ سیِّدُنا ربیع بن سلمان علیہ رحمۃ اللہ المنان فرماتے ہیں کہ ''میں نے اس تھیلی کو پہلے کبھی نہ دیکھا تھا ،میں اس کو لے کر گھر واپس آگیا ۔ عشاء کے بعد وظیفہ پورا کیا اوراسی سوچ میں جاگتا رہا کہ معاملہ کیا ہے ؟اچانک میری آنکھ لگ گئی ۔ خواب میں سرور عالم ،نورِ مجسم صلَّی اﷲتعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی زیارت کی ،میں نے آپ صلَّی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو سلام عرض کیا اورہاتھ چومے ۔''پیارے آقاصلَّی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے مسکراتے ہوئے سلام کا جواب دیا اورکچھ یوں ارشاد فرمایا :،''اے ربیع !آخر ہم کتنے گواہ اس بات پر قائم کریں کہ تونے حج کیا ہے ؟ تومانتا ہی نہیں ،سُن جب تو نے میری اولاد میں سے ایک عورت پر صدقہ کیا اور اپنا زادِ راہ ایثار کر کے اپنا حج ملتوی کر دیا ۔تو میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ تجھے اس کا اچھابدلہ عطا فرمائے ۔''تو اللہ تعالیٰ نے تیری صورت کا ایک فرشتہ بنا کر حکم دیا کہ وہ قیامت تک ہرسال تیری طرف سے حج کیا کرے ۔ اور دنیا میں تجھے یہ بدلہ دیا ہے کہ چھ سو درھم کے بدلے چھ سو دینا رعطا فرمائے ، تو اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھ ۔''پھر آقا صلَّی اﷲتعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے وہی الفاظ دہرائے ''مَنْ عَامَلَنَا رَبِحَ یعنی جو ہم سے معاملہ کرتا ہے ،نفع کماتا ہے۔''حضرتِ سیِّدُنا ربیع بن سلمان علیہ رحمۃ اللہ المنان فرماتے ہیں کہ جب میں سو کر اٹھا اور تھیلی کو کھولا ، تواس میں چھ سو اشرفیاں ہی تھیں ۔  (رفیق الحرمین،ص ۲۸۷)

روزنامہ حدیث نمبر 27: دنیا کی حقیقت

0 comments

مومِن دنیا میں کتنا ہی آرام میں ہو ،مگر اس کے لئے آخرت کی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا جیل خانہ ہے ،جس میں وہ دل نہیں لگاتا۔ جیل اگرچہ A کلاس ہو ،پھر بھی جیل ہے،اور کافر خواہ کتنے ہی تکلیف میں ہوں،مگر آخرت کے عذاب کے مقابل اس کے لئے دُنیا باغ اور جنت ہے۔ وہ یہاں دل لگا کر رہتا ہے۔لہٰذا حدیث شریف پر یہ اِعتراض نہیں کہ بعض مومن دنیا میں آرام سے رہتے ہیں، اور بعض کافر تکلیف میں۔  (مراٰۃ المناجیح،ج۷،ص۴)

دُ نیا قید خانہ ہے

    قاضی سہل محدث رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک دن بڑے تزک و احتشام کے ساتھ گھوڑے پر سوار کہیں تشریف لے جا رہے تھے ۔ اچانک ایک حمام سلگانے والا ، دھوئیں اور غبار کی کثافت سے میلا کچیلایہودی حضرت سہل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ قاضی صاحب ! مجھے اپنے نبی(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)کے اس فرمان کامطلب سمجھا دیجئے کہ''دنیا مؤمن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت ہے۔'' کیونکہ آپ مؤمن ہو کر اس عیش وآرام اور کرّ و فر کے ساتھ رہتے ہیں اور میں کافر ہو کر اتنا خستہ حال اور آلام ومصائب میں گرفتار ہوں۔ قاضی سہل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے برجستہ جواب دیا:'' آرام وآسائش کے باوجود یہ دُنیا میرے لئے جنت کی عظیم نعمتوں کے مقابلے میں قید خانہ ہے ، جبکہ تمام تر تکالیف کے باوجود یہ دُنیا تمہارے لئے دوزخ کے ہولناک عذاب کے مقابلے میں جنت ہے ۔''
 (تفسیرروح البیان،سورۃ الانعام ،تحت الآیۃ۳۲،ج۳،ص۲۳ )

Friday, March 13, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 26: عذابِ قبر

0 comments

عذاب قبر کے متعلق چند مسائل یاد رکھنے چاہیئں(۱)یہاں قبر سے مراد عالم بَرْزَخ ہے ۔جس کی اِبتدا ہر شخص کی موت سے ہے اِنتہا قیامت پر 'عرفی قبر مراد نہیں لہٰذا جو مُردہ دفن نہ ہوا بلکہ جلا دیا گیا یا ڈبو دیا گیا یا اسے شیر کھا گیا اسے بھی قبر کا حساب و عذاب ہے۔ (۲)حساب قبر اور ہے عذاب قبر کچھ اور بعض لوگ حساب قبر میں کامیاب ہوں گے مگر بعض گناہوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلاء جیسے چغلخور اور گندا (یعنی پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنے والا)(۳)کافر کو عذاب قبر دائمی ہوگا گنہگار مومن کو عارضی (۴)عذاب قبر روح کو ہے جسم اس کے تابع مگر حشر کے بعد والا عذاب وثواب روح وجسم دونوں کو ہوگا۔  (مراٰۃ المناجیح ، ج۱،ص ۱۲۵،ماخوذاً)

Thursday, March 12, 2015

روزنامہ حدیث نمبر 25: تائب کی فضیلت

0 comments

توبہ سے مُراد سچی اور مقبول توبہ ہے جس میں تمام شرائطِ جواز وشرائطِ قبول جمع ہوں کہ حقوقُ العباد اور حقوقِ شریعت ادا کردئیے جائیں ،پھر گُذشتہ کوتاہی پر ندامت ہو اور آئندہ نہ کرنے کا عہد ،اس توبہ سے گناہ پر مطلقاً پکڑ نہ ہوگی بلکہ بعض صورتوں میں تو گناہ نیکیوں سے بدل جائیں گے ۔ حضرت رابعہ بصریہ رحمۃ اللہ علیھا حضرت سفیان ثوری اور حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما سے فرمایا کرتی تھیں:''میرے گناہ تمہاری نیکیوں سے کہیں زیادہ ہیں ، اگر میری توبہ سے یہ گناہ نیکیاں بن گئے تو پھر میری نیکیاں تمہاری نیکیوں سے بہت بڑھ جائیں گی ۔ ''  (مرأۃ المناجیح ،ج۳،ص۳۷۹)

روزنامہ حدیث نمبر 24: توبہ کی بنیاد

0 comments

چونکہ گزشتہ گناہوں پر نَدَامَتْ(یعنی شرمندگی)توبہ کا رُکنِ اعلیٰ ہے کہ اس پر باقی سارے اَرکان مَبْنِی ہیں ،اس لئے صرف ندامت کا ذکر فرمایا ۔جو کسی کا حق مارنے پر نادِم ہوگا تو حق ادا بھی کردے گا، جو بے نمازی ہونے پر شرمندہ ہوگا وہ گزشتہ چھوٹی نمازیں قضا بھی کر لے گا۔ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ
 (مراٰۃ المناجیح،ج۳، ص۳۷۹)

ہمیں چاہیے کہ ندامتِ قلبی کو پانے کے لئے اِن مَدَنی پھولوں پر عمل کریں :
    (۱) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس طرح غور وفکر کریں کہ''اس نے مجھے کروڑہا نعمتوں سے نوازا مثلاً مجھے پیدا کیا،۔۔۔۔۔۔ مجھے زندگی باقی رکھنے کے لئے سانسیں عطا فرمائیں ،۔۔۔۔۔۔ چلنے کے لئے پاؤں دئیے۔۔۔۔۔۔چھونے کے لئے ہاتھ دئیے۔۔۔۔۔۔، دیکھنے کے لئے آنکھیں عطا فرمائیں۔۔۔۔۔۔ ، سننے کے لئے کان دئیے۔۔۔۔۔۔، سونگھنے کے لئے ناک دی۔۔۔۔۔۔، بولنے کے لئے زبان عطا کی اور کروڑ ہا ایسی نعمتیں عطا فرمائیں جن پر آج تک میں نے کبھی غور نہیں کیا ۔''پھر اپنے آپ سے یوں سوال کرے:''کیا اتنے احسانات کرنے والے رب تعالیٰ کی نافرمانی کرنامجھے زیب دیتا ہے ؟''
    (۲) گناہوں کے انجام کے طور پر جہنم میں دئیے جانے والے عذاب ِ الہٰی کی شدت کو پیشِ نظر رکھیں مثلاًسرورِ عالم صلَّی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا :
    (1)''دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب جس کو ہو گا اسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔''
 (صحیح مسلم ،کتاب الایمان ، باب اھون اھل النار عذابا ،رقم ۳۶۱ ، ص ۱۳۴)

    (2)''اگراس زرد پانی کا ایک ڈول جو دوزخیوں کے زخموں سے جاری ہو گا دنیا میں ڈال دیا جائے تو دنیا والے بدبودار ہو جائیں۔''
 (جامع التر مذی ،کتاب صفۃ جھنم ،باب ماجاء فی صفۃ شراب اھل النار ،الحدیث۲۵۹۳ ، ج ۴، ص ۲۶۳ )

    (3)''دوزخ میں بُخْتِی(یعنی بڑے )اونٹ کے برابر سانپ ہیں، یہ سانپ ایک مرتبہ کسی کو کاٹے تو اس کا درد اور زہر چالیس برس تک رہے گا۔ اور دوزخ میں پالان بندھے ہوئے خچروں کے مثل بچھو ہیں جن کے ایک مرتبہ کاٹنے کا دردچالیس سال تک رہے گا۔''
 (المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث عبداللہ بن الحارث ، رقم ۱۷۷۲۹ ،ج۶ ،ص ۲۱۷)

(4) ''تمہاری یہ آگ جسے ابن آدم روشن کرتا ہے ، جہنم کی آگ سے ستر درجے کم ہے۔ ''یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی '' یا رسول اللہ صلَّی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم!جلانے کے لئے تو یہی کافی ہے؟''ارشادفرمایا ''وہ اس سے اُنہتر(۶۹)درجے زیادہ ہے ، ہر درجے میں یہاں کی آگ کے برابر گرمی ہے۔''
 (صحیح مسلم، کتاب الجنۃ،باب فی شدۃ حرنار جھنم ،رقم ۲۸۴۳ ، ص ۱۵۲۳)

    پھر اپنے آپ سے یوں مخاطب ہوں :''اگر مجھے جہنم میں ڈال دیا گیا تو میرا یہ نرم ونازُک بدن اس کے ہولناک عذابات کوکس طرح برداشت کر پائے گا ؟جبکہ جہنم میں پہنچنے والی تکالیف کی شدّت کے سبب انسان پر نہ توبے ہوشی طاری ہوگی اور نہ ہی اسے موت آئے گی ۔ آہ! وہ وقت کتنی بے بسی کا ہوگاجس کے تَصَوُّر سے ہی دل کانپ اٹھتا ہے ۔کیا یہ رونے کا مقام نہیں ؟ کیا اب بھی گناہوں سے وَحْشَت محسوس نہیں ہوگی اور دل میں نیکیوں کی محبت نہیں بڑھے گی ؟کیا اب بھی بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں سچی توبہ پر دل مائل نہیں ہوگا ؟''
    امید ہے کہ بار بار اس انداز سے فکر ِ مدینہ کرنے کی برکت سے دل میں ندامت پیدا ہوجائے گی اور سچی توبہ کی توفیق مل جائے گی ۔ ان شآء اللہ عَزَّوَجَلَّ